میں نے گھڑی سے کہا: اتنی ٹِک ٹِک کیوں؟ گھڑی بولی: بھائی، گھر والے ‘ابھی آتا ہوں’ پر یقین نہیں کرتے، میں ثبوت دیتی ہوں!